بنگلورو،26؍مارچ(ایس او نیوز) ریاستی بی جے پی کے نائب صدر اور سینئر لیڈر بابو راؤ چوہان نے آج بی جے پی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔ گلبرگہ لوک سبھا حلقے سے بی جے پی کی ٹکٹ کے دعویدار سمجھے جانے والے بابو راؤ چوہان نے اس حلقے سے کانگریس سے مستعفی ہوکر بی جے پی میں شامل ہونے والے امیش جادھو کو ٹکٹ دئے جانے پر ناراضی ظاہر کرتے ہوئے اپنے اس فیصلے کا اعلان کیا۔ ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بی جے پی کو دلتوں کی دشمن قرار دیا اور کہاکہ پچھلے چار سال سے سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ محض نعرہ بن کر رہ گیا۔ملک کے کسی طبقے کی فلاح وبہبود کے لئے مرکزکی مودی حکومت نے کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے کہاکہ ریاستی بی جے پی صدر بی ایس یڈیورپا کا دلتوں کے ساتھ کھانا کھانا محض دکھاوا تھا، دلتوں کی فلاح وبہبود کے لئے انہوں نے کچھ نہیں کیا ، بلکہ ہمیشہ سے بی جے پی نے سماج کے کمزور طبقات کے تئیں متعصبانہ پالیسی اپنائی ہے۔کسی بھی معاملے میں پارٹی کا نائب صدر ہونے کے باوجود انہیں اعتماد میں نہیں لیاگیا۔ پارٹی کی نائب صدارت انہیں برائے نام سونپی گئی تھی۔ انہوں نے کہاکہ بی جے پی میں شمولیت کے بعد انہوں نے محسوس کیا ہے کہ اس پارٹی میں صرف انہیں لوگوں کو فوقیت دی جاتی ہے جو متعصبانہ ذہن کے حامل ہوں یا پھر اعلیٰ ذاتوں سے وابستہ ہوں ۔اس پارٹی کو ایک دوسرے کو اعتماد میں لینے کی روایت بالکل نہیں ہے۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے انہوں نے مجبوراً پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔بابو راؤ چوہان کا شمار ریاست کے لمبانی طبقے کے طاقتور قائد کے طور پر کیاجاتاہے۔ بی جے پی چھوڑدینے کا ان کا فیصلہ کلبرگی لوک سبھا حلقے میں کانگریس لیڈر ملیکارجن کھرگے کے لئے بہت بڑا مثبت پہلو سمجھا جارہاہے، کیونکہ اس حلقے میں بڑی تعداد میں لمبالی حلقے کے ووٹر موجود ہیں۔ اس مرحلے میں اگر بابو راؤ چوہان گھرکے کے ساتھ ہوگئے تو اس حلقے پر قبضہ کرنے بی جے پی کا خواب، خواب ہی رہ جائے گا۔